بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
دوسری قسط:
ممکن ہے کہ امریکی بحری جہاز ریڈار شکن میزائل سے بچنے کے لئے اپنا ریڈار بند دہے، لیکن ریڈار کی بندش جہاز کے ڈھانچے کی شکل و صورت اور تصویری و حرارتی نشانات کو ختم نہیں کرسکتی۔
آپٹیکل سرچر بھی درحقیقت ایک غیر فعال سینسر ہے اور ہدف تلاش کرنے کے لیے ریڈار لہریں نہیں پھیلاتا، اسی لئے الیکٹرانک وارننگ سسٹم محض لہروں کے اخراج کی نشاندہی سے اپنی طرف آنے والے میزائل کے اس کے ہدف پر لاک ہونے سے باخبر نہیں ہو سکتا۔
درحقیقت آپٹیکل ٹیکنالوجی امریکہ کی ایک اہم روایتی برتری ـ یعنی وسیع الیکٹرانک جنگی طاقت ـ کو چیلنج کرتی ہے اور دشمن کے بحری جہاز کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بیک وقت گائیڈنس کے کئی مختلف روشوں سے لیس میزائلوں سے بچاؤ تیار رہے؛ جو کہ ناممکن عمل ہے۔
قاسم بصیر؛ طویل رینج کے ساتھ درست دیکھنے والی آنکھ سے لیس
“قاسم بصیر” الیکٹرو آپٹیکل میزائل کو اپریل 2025ع میں متعارف کرایا گیا؛ یہ ٹھوس ایندھن کا حامل ہے اور اس کی اعلان کردہ رینج کم از کم 1200 کلومیٹر ہے۔
یہ میزائل آپٹیکل اور تھرمل امیجنگ گائیڈنس سسٹم، حرکت پذیر وار ہیڈ اور الیکٹرانک جنگ کے خلاف مزاحمت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
شائع شدہ معلومات کے مطابق قاسم بصیر نے اپنے تجربے میں 1200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے سے، GPS پر انحصار کئے بغیر، متعینہ ہدف کو کئی اہداف کے درمیان تلاش کرکے نشانہ بنایا۔
اس کے گائیڈنس سسٹم کی درستگی کی اصلاح، اور آخری مرحلے میں اس کے وارہیڈ کی حرکت پذیری میں اضافہ دشمن کے میزائل شکن دفاعی نظاموں کے لئے تسدیدی کارروائی کو مزید دشوار بنا چکا ہے۔ ٹھوس ایندھن فائرنگ کی تیاری کا وقت کم کر دیتا ہے، طویل رینج جکڑبندی کے علاقے کو پھیلاتا ہے، آپٹیکل سرچر آخری مرحلے کی درستی فراہم کرتا ہے اور وارہیڈ کی حرکت پذیری اس کا راستہ روکنے کے عمل کو مزید دشوار بنا دیتی ہے۔ ان اجزاء کے امتزاج سے ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی میزائل طاقت اب محض پراجیکٹائلز کی تعداد یا وار ہیڈز کے وزن پر استوار نہیں، بلکہ رینج، درستگی، تیاری کی رفتار اور دشمن کے دفاعی نظام کے خلاف مزاحمت، کے آمیزے کی طرف ترقی کر چکی ہے۔
خلیج فارس؛ ایران کے زیر نگرانی
خلیج فارس میں ایران کی بالادستی محض ساحل پر میزائلوں کی تعیناتی کا نتیجہ نہیں ہے۔ طویل ساحلی پٹی، متعدد جزائر، تیز رفتار بحری جہاز، ڈرون اور مختلف علاقوں میں تعینات سینسرز کا جال ایک بکھرا ہؤا مگر باہم جڑا ہؤا نیٹ ورک ہے جو دشمن کی نقل و حرکت کی شناخت اور تہدف (Detect & Target) کے لئے نیٹ ورک بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس نیٹ ورک میں ایک نظام ہدف کی شناخت کر لیتا ہے، دوسرا نظام اس کی شناخت اور نقل و حرکت کے راستے کی تصدیق کرتا ہے اور میزائل یونٹ آخری ضرب لگا دیتا ہے۔ نیٹ ورک کے اجزاء کا بکھراؤ بھی اس بات کا سبب بنتا ہے کہ اگر ایک سینسر یا ایک اڈے کو ناکارہ بنا دے تو ایران کی پوری طاقت کام سے نہ جائے اور دفاعی سرگرمیاں جاری رہیں۔ خلیج فارس کے شمالی اور جنوبی ساحلوں کے درمیان محدود فاصلہ میزائل کی پرواز کے وقت اور امریکی بحری جہازوں کے ردعمل کے دورانیے کو کم کر دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں دشمن کا بحری جہاز مجبور ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کا ایک حصہ مسلسل نگرانی، تسدید اور دفاع پر صرف کرے، ایسی صورتحال جو کاروائی کے لئے اس کی آزادیِ عمل محدود ہو جائے اور حملہ آور مشن پر اس کی توجہ کم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی طلوع وند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ